سیاسیات(قسط نمبر 1)

 سیاسیات

قسط نمبر 1

پیشکش : زبول اسٹوڈنٹ اسلامک کونسل


یاست: سیاست کو لوگ ’’دنیا داری‘‘ تصور کرتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے نزدیک ’’سیاست‘‘ دین ہے اور نبی کے بعد اس کی جانشینی کا نام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے: 


کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ھلک بنی خلفہ بنی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون الحدیث (بخاری، ابو ھریرہ رضی اللّٰه عنہ )

بنی اسرائیل کا نظام سیاست ان کے انبیاء کے ہاتھ میں ہوتا تھا، جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی، دوسرا اس کا جانشین آجاتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، ہاں خلفا ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے۔

ایک اور روایت میں آیا ہے۔

لی النبوۃ ولکم الخلافۃ (ابن عساکر، ابن عباس)

نبوت صرف میرے لئے اور خلافت تمہارے لئے۔


خلافت نبی کی جانشینی کا نام ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی کی سیاست بھی دین ہوتی ہے اور اس کے جو جانشین ہوتے ہیں، وہ بھی نبی کی اسی امانت کے وارث ہوتے ہیں اور وارث ہونے چاہئیں۔

سیاست کو ’’دنیا‘‘ سمجھنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ لوگ اس سلسلہ میں جو مناسب احتیاط چاہئے نہیں کرتے۔ جیسا امیدوار ہو، اس کو اپنے نجی مفاد کے مطابق سر آنکھوں پر رکھ لیتے ہیں اور ملک و ملت کے سلسلہ میں ان کے ہاتھوں جو کچھ ہو جاتا ہے، اس کی پروا نہیں کرتے۔

دینی سیاست کے معنی ہیں کہ نظامِ حکومت، دین برحق کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جائے اور اسلام کی ہدایات کے مطابق نافذ کیا جائے۔


قرآن کریم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا:

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَکَّنّٰھُمْ فِیْ الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلوٰۃَ وَاٰتُوْا الزّٰکوٰۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھْوَ عَنِ الْمُنْکَر۔ (پ ۱۷، الحج ع ۶)

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر زمین میں ہم ان کو اقتدار دے دیں تو وہ نمازیں قائم کریں گے۔ زکوٰۃ دیں گے۔ اچھے کام کے لئے کہیں گے اور برے کاموں سے روکیں گے۔

معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی سیاست اور اقتدار نری دُنیا نہیں دین بھی ہے۔


سیاست امانت ہے:

سیاست دینیہ کا نام قرآن کریم نے ’’امانت‘‘ رکھا ہے۔ حدیث شریف میں بھی اس کا نام ’’امانت‘‘ آیا ہے (انھا امانۃ۔ رواہ مسلم) گویا کہ حکومت خدا ملک اور ملت کی طرف ایک امانت ہے، کاروباور اور خدائی کرنا نہیں ہے۔ خدا کے منشاء ملک کے مفاد اور ملت اسلامیہ کے نظریۂ حیات کا پورا پورا تحفظ کرنا اس کی غرض و غیات ہے۔ حضرت امام ابن تمیہ رحمہ اللہ  کے نزدیک سیاست عادلہ اور ولایت (حکومت) صالحہ کے دو بنیادی عنصر یہ ہیں۔ 

ایک امانت اہل امانت کے حوالے کرنا اور دوسرا عدل و انصاف سے فیصلہ کرنا۔

اداء الامانات الی اھلھا والحکم بالعدل فھٰذان جماع السیاسۃ العادلۃ والولایۃ الصالحۃ (السیاسۃ الشرعیۃ) ص ۲


اہل ہونے کے معنی:

یعنی حکومت اس کے حوالے کی جائے جو اس کے اہل ہوں۔ اہل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ:

الف۔ اہل علم ہوں اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہوں۔ مفادِ عامہ اور مصالح دینیہ کی حفاظت کرنے پر قادر ہوں۔

ب۔ دیانت دار اور صالح ہوں۔ ابن الوقف، خود غرض اور اقتدار پرست نہ ہوں۔


نا اہلوں کی حکومت:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

جب امانت گنوا دی جائے تو قیامت کا انتظار کیجیے! صحابہ نے عرض کی۔ ضائع ہونے کے کیا معنی ہیں۔ فرمایا:

جب حکومت نا اہلوں کے سپرد کر دی جائے، اس وقت بس قیامت کی راہ دیکھئے۔

اذا ضیعت الامانۃ فانتظر الساعۃ قیل یا رسول اللّٰہ وما اضاعتھا؟ قال اذا وسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ (بخاری، ابو ھریرہ رضی اللّٰه عنہ )


ایک خاتون نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا:

ما بقاؤ نا ھذا الامر الصالح الذی جاء اللّٰہ بہ بعد الجاھلیۃ قال بقاء کم علیہ ما استقامت بکم ائمتکم (بخاری، قیس ابن ابی حازم)

وہ نظام صالح جسے جاہلیت کے بعد اللہ لایا، اس پر ہم کب تک قائم رہیں گے؟

فرمایا: جب تک تمہارے حکمران سیدھے رہیں گے۔


صالح اور اہل کا انتخاب:

قرآن و حدیث کی رُو سے معلوم ہوا کہ، سیاست مادر پدر آزاد دیا داری کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ‘‘دینی حکمت عملی‘‘ ہے جو دیا کو دین کے زیر سایہ لے کر چلنے کی ضامن ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کو آگے لانے کی کوشش کی جائے جو اس حکمت عملی اور دنی فریضہ کے سلسلہ میں مخلص بھی ہوں اور اہل بھی۔ ورنہ یہ خیانت ہو گی، خدا کی، رسول کی اور ملتِ اسلامیہ کی۔

قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من ولی من امر المسلمین شیئا فو لی رجلا وھو یجدد من ھو اصلح للمسلمین فقد خا اللّٰہ ورسولہ۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ: جو مسلمانوں کے کسی کام کا والی بنا، پھر جان بوجھ کر ایک ایسے شخص کو حاکم مقرر کر دیا، ج س بہتر ایک شخص مل سکتا ہے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی۔

اس سے یہ بھی اخذ ہو سکتا ہے کہ بہتر کو چھوڑ کر دوسرے شخص کو منتخب کرنا، اللہ اور اس کے رسول کی بہت بڑی خیانت ہے۔ حاکم کی روایت میں ہے، وخان المومنین (حاکم) میں آیا ہے یعنی اس نے مسلمانوں کی بھی خیانت کی۔

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس شرط پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی تھی کہ: ان لا تنازع الامر اھلہ (بخاری و مسلم) جو اہل ہے اس سے حکومت نہیں چھینیں گے۔‘‘ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:

من سودہ قومہ علی الفقہ کان حیوۃ لہ ومن سودہ قومہ علی غیر فقہ کان ھلاکا لہ ولھم ردارمی۔ عن تمیم الداری)

جس کو قوم نے اس کی فہم و فراست کی بنا پر امیر بنایا وہ اس کے لئے حیات بخش ثابت ہو گا اور جس شخص کو قوم نے فہم و ہوش کے علاوہ کسی اور وجہ سے امیر بنایا وہ خود بھی ڈوبے گا او ان کو بھی لے ڈوبے گا۔

کیا ہمارے ملک میں یہی کچ نہیں ہو رہا ہے۔ بہتر آدمی کو چھوڑ کر دوسروں کو محض ان کے اثر و رسوخ یا دھن دولت اور برادری کی وجہ سے ووٹ دے کر کامیاب بنایا جاتا ہے۔ اور جو لوگ عقل و ہوش، سیاسی سمجھ بوجھ کے حامل اور دیانتدار ہیں وہ کھڑے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں، ان کو پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتے۔ آج جو لوگ کام کے نیک آدمیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں ان کو اس کے نتائج کا اسی وقت اندازہ ہو گا جب ان کی آنکھیں بند ہوں گی۔

(جاری ہے...)

Comments

Popular posts from this blog

Brief Reasons and Reforms For Pakistan to become a stable State