Posts

Showing posts from November, 2022

سیاسیات(قسط نمبر 3)آخری قسط

 سیاسیات قسط نمبر 3 آخری قسط پیشکش : زبول اسٹوڈنٹ اسلامک کونسل جمہوریت: اسلامی میں جو جمہوریت ہے، اس سے مختلف ہے جس کا اس وقت غوغا اور چرچا ہے۔ مروج جمہوریت میں نمائندگانِ قوم، دستور ساز بھی ہوتے ہیں۔ قانون بھی دیتے ہیں گویا کہ وہ پوری قوم کے خدا ہوتے ہیں، العیاذ باللہ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے منشا کے نفاذ اور اتمام لئے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، غور کرتے ہیں، اور عصری حالات کے تقاضوں کے مطابق ملت اسلامیہ کو کتاب و سنت کی روشنی مہیا کرتے ہیں۔ ان میں نا اہلوں کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وہ سیاسی سمجھ بوجھ کے مالک، مجتہد، قرآنی علم و عمل کے حامل، دیانتدار اور قابل اعتبار لوگ ہوتے ہیں۔ اگر ان کی رائے قرآن و حدیث سے متصادم ہو جائے تو ترک کر دی جاتی ہے۔ اس میں اس امر کے لئے بھی گنجائش ہوتی ہے کہ صدر مملکت اور شورائیہ سے جب تک نا اہلی اور ناکامی سر زد نہ ہو تو تا آخر ان کی رہنمائی اور قیادت کو ہی برقرار دکھا جائے، آئے دن کی ادھیڑ پن سے، جس کی وجہ سے کروڑوں کے حساب سے وقت اور دولت لٹتی ہے، لاکھوں کے حساب سے بد دیانتی اور مکاری کے فنون ایجاد ہوتے ہیں اور ان گنت رقابتوں ا...

سیاسیات(قسط نمبر 2)

  سیاسیات قسط نمبر 2 پیشکش : زبول اسٹوڈنٹ اسلامک کونسل جتھے اور برادری کی لاج: آج کل جتھے اور برادریاں بہت بڑی مصیبت بن رہی ہیں۔ ان کی خاطر لوگوں کو اندھے کنویں میں بھی چھلانگ لگانی پڑے تو نہیں چوکتے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ کا ارشاد ہے: لیس منا من دعا الی عصبیۃ ولیس منا من قاتل عصبیۃ ولیس منا من مات عصبیۃ۔ ابو داؤد۔ عن جبیر) وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے قومی عصبیت کی طرف دعوت دی۔ اس شخص سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں جو قومی عصبیت ک لئے لڑتا ہے اور وہ شخص ہمارا کچھ نہیں لگتا جو قومی عصیت پر مرا۔ غرض یہ ہے کہ اعانت کا معیار، ذات پات کی بجائے اہلیت ہو۔ جو ذات پات کو معیار بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔ ظاہر ہے وہ اسلام کی روح کے خلاف کرتا ہے ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حق کے لئے اپنی قوم سے کیوں لڑتے؟ یہی کیفیت سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور ارکان کی ہے کہ وہ اپنی جماعت کے گھٹیا آدمی کی حمایت کے لئے بھی جان کی بازی لگا لیتے ہیں مگر اس کے مقابلے میں جو ملک و ملت کے لئے مفید اور بہتر ہوتا ہے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ عن ابن مسعود: عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال من نصر قومہ...

سیاسیات(قسط نمبر 1)

  سیاسیات قسط نمبر 1 پیشکش : زبول اسٹوڈنٹ اسلامک کونسل یاست: سیاست کو لوگ ’’دنیا داری‘‘ تصور کرتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے نزدیک ’’سیاست‘‘ دین ہے اور نبی کے بعد اس کی جانشینی کا نام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:  کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ھلک بنی خلفہ بنی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون الحدیث (بخاری، ابو ھریرہ رضی اللّٰه عنہ ) بنی اسرائیل کا نظام سیاست ان کے انبیاء کے ہاتھ میں ہوتا تھا، جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی، دوسرا اس کا جانشین آجاتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، ہاں خلفا ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے۔ ایک اور روایت میں آیا ہے۔ لی النبوۃ ولکم الخلافۃ (ابن عساکر، ابن عباس) نبوت صرف میرے لئے اور خلافت تمہارے لئے۔ خلافت نبی کی جانشینی کا نام ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی کی سیاست بھی دین ہوتی ہے اور اس کے جو جانشین ہوتے ہیں، وہ بھی نبی کی اسی امانت کے وارث ہوتے ہیں اور وارث ہونے چاہئیں۔ سیاست کو ’’دنیا‘‘ سمجھنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ لوگ اس سلسلہ میں جو مناسب احتیاط چاہئے نہیں کرتے۔ جیسا امیدوار ہو، اس کو اپنے نجی مفاد کے مطابق سر ا...