سیاسیات(قسط نمبر 2)
سیاسیات
قسط نمبر 2
پیشکش : زبول اسٹوڈنٹ اسلامک کونسل
جتھے اور برادری کی لاج:
آج کل جتھے اور برادریاں بہت بڑی مصیبت بن رہی ہیں۔ ان کی خاطر لوگوں کو اندھے کنویں میں بھی چھلانگ لگانی پڑے تو نہیں چوکتے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ کا ارشاد ہے:
لیس منا من دعا الی عصبیۃ ولیس منا من قاتل عصبیۃ ولیس منا من مات عصبیۃ۔ ابو داؤد۔ عن جبیر)
وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے قومی عصبیت کی طرف دعوت دی۔ اس شخص سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں جو قومی عصبیت ک لئے لڑتا ہے اور وہ شخص ہمارا کچھ نہیں لگتا جو قومی عصیت پر مرا۔
غرض یہ ہے کہ اعانت کا معیار، ذات پات کی بجائے اہلیت ہو۔ جو ذات پات کو معیار بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔ ظاہر ہے وہ اسلام کی روح کے خلاف کرتا ہے ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حق کے لئے اپنی قوم سے کیوں لڑتے؟
یہی کیفیت سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور ارکان کی ہے کہ وہ اپنی جماعت کے گھٹیا آدمی کی حمایت کے لئے بھی جان کی بازی لگا لیتے ہیں مگر اس کے مقابلے میں جو ملک و ملت کے لئے مفید اور بہتر ہوتا ہے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
عن ابن مسعود: عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال من نصر قومہ، علی غیر الحق فھو کالبعیر ردی فھو ینزع بذنبہ۔ (ابو داؤد)
جس شخص نے نا حق اپنی قوم کی حمایت کی، وہ اس اونٹ کی مانند ہے جو کنوئیں میں گر پڑے پھر اس کو اس کی دم پکڑ کر کھینچا جائے۔
حضرت امام ابن تمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فان عدل عن الاحق الاصلح الی غیرہ لاجل قرابۃ بینھما اوولاء عتاقۃ او صداقۃ او موافقۃ فی بلد او مذھب او طریقۃ او جنس کالعربیۃ والفارسیۃ والترکیۃ والرومیۃ۔۔۔۔ او لضغن فی قلبہ علی الاحق او عداوۃ بینھما فقد خان اللّٰہ ورسولہ والمومنین ودخل فیما نھی عنہ فی قولہ تعالٰی یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللّٰہ والرسول وتخونوا اماناتکم وانتم تعلمون (السیاسیۃ الشرعیۃ فی اصلاح الراعی والرعیۃ ص ۴)
اگر امیر یا بادشاہ کسی زیادہ مستحق اور زیادہ لائق آدمی کو نظر انداز کر کے کوئی عہدہ اس بناء پر کسی دوسرے شخص کو دے دے کہ وہ اس کا قرابت دار یا دوست یا ہم مشرب یا ہم مذہب یا ہم وطن یا ہم جنس مثلاً عربی، فارسی، ترکی، رومی ہے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے غداری کی … یا وہ دل میں اس کے خلاف کینہ یا دشمنی کے جذبات رکھتا ہے (یا کسی اور وجہ سے مستحق پر غیر مستحق کو ترجیح دیتا ہے) تو اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے بے وفائی کی، ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی اس نہی میں داخل ہے۔
اے مسلمانوں، اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو او نہ ہی جان بوجھ کر ان امانتوں میں خیانت کرو۔
رشوت یا قربت کی بناء پر ترجیح دینا:
حضرت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
او لرشوۃ یاخذھا منہ من مال او منفعۃ او غیر ذلک من الاسباب … ثم قال واعلموا انما اموالکم و اولادکم فتنۃ وان اللّٰہ عندہ اجر عظیم فان الرجل لحبہ لولدہ او لعتیقہ قد یوثرہ فی بعض الولایات او یعطیہ ما لا لستحقہ فیکون قد خان امانتہ (السیاسۃ الشرعیۃ)
اسی طرح (اگر اس نے) رشوت ل کر یا کسی اور منفعت وغیرہ کی وجہ سے اہل آدمی کو نظر انداز کرے نا اہل کو ترجیح دی۔ (تو اس نے بھی، رسول اور مسلمانوں سے بے وفائی کی) اور یاد رکھو کہ تمہارے مال و اولاد فتنہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اجر موجود ہے۔
یقین کیجئے: ایک شخص بسا اوقات پدری محبت کی بناء پر بض عہدوں میں اپنی اولاد یا غلام کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے یا اس کو کوئی ایسے شے دیتا ہے جس کا وہ شخص شرعاً مستحق نہیں ہوتا وہ بھی امانت میں خیانت کرتا ہے۔
ثم ان المؤدی للامانۃ مع مخالفۃ ھواہ یثبتہ اللّٰہ فیحفظہ فی اھلہ وما لہ بعدہ والمطیع لھواہ یعاقبہ اللّٰہ بنقیض قصدہ فیذل اھلہ ویذھب ما لہ (السیاسۃ الشرعیۃ)
ثم وہ شخص اگر اپنی خواہش نفس کے خلاف امانت ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ثابت قدم رکھے گا اور اس کی وفات کے بعد اس کے اہل و عیال کی حفاظت کرے گا او جو شخص اس میں اپنی خواہش نفس کا مطیع ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے مقصد میں ناکام رکھ کر عذاب د گا۔ اس کے اہل و عیال کو ذلیل و رسوا کرے گا اور اس کے مال و متاع کو برباد کرے گا۔
گو ان سے غرض خلیفہ کو متوجہ کرنا ہ کہ جو حکام مقرر کرے وہ اہل ہوں، دیانت دار ہوں اور ملک و ملت کے لئے مفید ہوں، تاہم جن نمائندوں کا ہم انتخاب کرتے ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے۔ جو شخص رشوت لے کر غیر مستحق کو ووٹ دے کر مستحق دیانتدار اور اہل انسان کی راہ مارتا ہے۔ وہ بہت ہی خسارے کا سودا کرتا ہے، ملک و قوم کے مستقبل کو غارت کرتا ہے اور اپنی آخرت برباد کر کے خدا اور ملت اسلامیہ کی نگاہ میں رسوا ہوتا ہے۔ اسلام کی نگاہ میں نبوی وراثت ارضی کے اہل اور وارث وہی ہونے چاہئیں جو بہترین اور صالح لوگ ہوں، جو مقصد ہے وہ ان کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ حضرت امام ابن کثیر فرماتے ہیں:
اسلامی سوسائٹی کے نکوکار افراد روئے زمین پر خدا کے نائب ہیں، انسانیت کے رہنما اور لیڈر ہیں۔ انسانوں کے والی اور نگران ہیں اور وہی دنیا کے بہتر منطقوں میں بہتر نظام قائم کرنے پر مامور ہیں۔‘‘ (اسلام کا نظامِ حکومت ص ۳۳۱ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ۳ ص ۳۰۰ )
قوم اور ملت اسلامیہ کی یہ کتنی بد نصیبی ہے کہ:
جو لوگ انتخاب میں حصہ لیتے ہیں، ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ننگ دین بھی ہیں۔ اور ننگ قوم بھی، اسلامی تعلیمات سے بالکل بے خبر، قرآنی علم و عمل کے لحاظ سے بالکل کورے، ان کی نجی زندگی حد درجہ گھناؤنی اور ان کی ذہنی اڑان حد درجہ پست، نگاہ کوتاہ، فکر محدود، کردار میں بھرپور سطحیت، اکثر ’’رنگیلے شاہ‘‘ ’’راج دلارے‘‘ اگر ان کے پاس جاگیر اور دولت نہ ہوتی تو ان کو قوم کے جوتوں میں بھی جگہ نہ ملتی۔ ہم پوچت ہیں کہ اگر ملت اسلامیہ میں جان ہوتی تو کیا یہ لوگ ہمارے سر کا تاج بن سکتے تھے۔
اب بھی وقت ہے کہ، جو امانت خدا نے آپ کے حوال کی ہے اس کی پوری درد و سوز کے ساتھ حفاظت کریں، یہ نبوی مسندان ناپاک لوگوں کے سپرد نہ کریں جس پر کبھی ابو بکر و عمر، عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے پاک لوگ بیٹھا کرتے تھے، جب ایسے ناہنجار اور نابکار لوگ ملت اسلامیہ کی اس سب سے اُونچی اور پاک گدی پر براجمان ہوتے ہیں تو کیا آپ کو غیرت اور شرم نہیں آتی کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پاک اور معصوم گدی کو کن نا اہل لوگوں کے حوالے کر رہے ہیں۔
(جاری ہے...)
Comments
Post a Comment