سیاسیات(قسط نمبر 3)آخری قسط

 سیاسیات

قسط نمبر 3

آخری قسط

پیشکش : زبول اسٹوڈنٹ اسلامک کونسل


جمہوریت:

اسلامی میں جو جمہوریت ہے، اس سے مختلف ہے جس کا اس وقت غوغا اور چرچا ہے۔ مروج جمہوریت میں نمائندگانِ قوم، دستور ساز بھی ہوتے ہیں۔ قانون بھی دیتے ہیں گویا کہ وہ پوری قوم کے خدا ہوتے ہیں، العیاذ باللہ۔

اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے منشا کے نفاذ اور اتمام لئے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، غور کرتے ہیں، اور عصری حالات کے تقاضوں کے مطابق ملت اسلامیہ کو کتاب و سنت کی روشنی مہیا کرتے ہیں۔ ان میں نا اہلوں کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وہ سیاسی سمجھ بوجھ کے مالک، مجتہد، قرآنی علم و عمل کے حامل، دیانتدار اور قابل اعتبار لوگ ہوتے ہیں۔ اگر ان کی رائے قرآن و حدیث سے متصادم ہو جائے تو ترک کر دی جاتی ہے۔ اس میں اس امر کے لئے بھی گنجائش ہوتی ہے کہ صدر مملکت اور شورائیہ سے جب تک نا اہلی اور ناکامی سر زد نہ ہو تو تا آخر ان کی رہنمائی اور قیادت کو ہی برقرار دکھا جائے، آئے دن کی ادھیڑ پن سے، جس کی وجہ سے کروڑوں کے حساب سے وقت اور دولت لٹتی ہے، لاکھوں کے حساب سے بد دیانتی اور مکاری کے فنون ایجاد ہوتے ہیں اور ان گنت رقابتوں اور دشمنیوں کے لازوال بھوت نمودار ہوتے ہیں۔ نجات مل جاتی ہے۔

ہمارے نزدیک اسلامی جمہوریہ، صرف ترجمان ہوتی ہے۔ شارع نہیں ہوتی، مرب میں جس کے اب مسلم مقل ہیں، جمہوریت کو ’’خدا اور رسول‘‘ کا درجہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ دستور سازی خدا کا حق ہے۔


نشہ نہیں، ترشی ہے:

اسلامی نقطۂ نظر سے ’’سیاست‘‘ نشۂ اقتدار کا نہیں بلکہ مسلم کے لئے ایک ایسی ترشیٔ فریضہ ہے، جس کے ہاتھوں ہمارے سربراہ کے دن کا چین، رات کا آرام، خوشی کی مسکراہٹ اور بے فکری کی گھڑیا کافور ہو جاتی ہیں۔ لوگ سوتے ہیں وہ جاگتا ہے۔ اس کے دورِ حکومت میں بندگان خدا ہنستے ہیں اور یہ اپنے فرائض کی بجا آوری کی فکر میں گھلتا اور روتا ہے۔


فرائض:

(الف) اس کی زندگی پوری ملت اسلامیہ کے لئے پورا ’’اُسوۂ حسنہ‘‘ ہوتی ہے۔ بے داغ دامن، بے لاگ ذہن، بے لوث کردار، درد و سوز کا مجسمہ اور قول و عمل کے لحاظ سے ’’تفسیر قرآن‘‘ ہونا سربراہ کی صفات حسنہ کی بنیادی چیزیں ہیں ورنہ اسے ملت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام کی رہنمائی کے لحاظ سے نااہل اور اَن فٹ تصور کیا جاتا ہے۔

(ب) اسلام کی نشر و اشاعت اسلامی مملکت کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کے دورِ اقتدار میں اسلام کا دائرہ نہیں بڑھا تو اسے ناکام دورِ خیال کیا جاتا ہے۔

(ج) اسلامی مکارمِ اخلاق کا تحفظ اور اشاعت کا بندوبست کرنا حکومتِ الٰہیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

(د) توحید کے اتمام اور شرک و بدعت کے استیصال کی طرف توجہ دینا اسلامی نمائندوں کا منصی فریضہ ہوتا ہے۔

(ر) ملک کے کمزوروں کی داد رسی اور ان کی مشکلات اور مسائل کو حل کئے بغیر مملکت اسلامیہ کی اسمبلی پر بوجھ بنے رہنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاتی۔

(ق) دولت اور وسائل دولت کی تقسیم کا عادلانہ نظام قائم کرنا، غیر جانبدار اور جاندار عدلیہ مہیا کرنا ارباب اقتدار کا بنیادی فرض ہوتا ہے تاکہ ملک سے جو رد ظلم کا سد باب اور حقوق العباد کی مناسب حفاظت کی جا سکے۔

(م) پاکیزہ نظامِ تعلیم کا اہتمام کرنا تاکہ ملک سے ناخواندگی دور ہو، کتاب و سنت سے جہالت کا خاتمہ ہو، ملک و ملت کی دینی اور دنیوی ضروریات کے مناسب حال نوخیز نسل تیار ہو سکے۔


ختم شُد

Comments

Popular posts from this blog

Brief Reasons and Reforms For Pakistan to become a stable State